Mawlāna Fuzail Ahmad Nasiri

ذاتی احوال و تعارف

مولانا کا پورا نام اور نسب اس طرح ہے:

فضیل احمد ناصری ابن

2: مولانا جمیل احمد ناصری ابن

3: مولانا عبدالرشید ناصری ابن

4: مولانا ڈپٹی عبدالصمد ابن

5: مولانا یاد علی ابن

[مولانا شاہ منور علی دربھنگوی، خلیفہ حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ انہیں کے حقیقی بھائی تھے۔ لا ولد تھے، اسی لیے انہوں نے اپنے بھائی شیخ یاد علی کے بیٹے مولانا ڈپٹی عبدالصمد کو گود لیا، جو مولانا فضیل احمد ناصری کے پردادا تھے۔ مولانا منور علی صاحبؒ دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کی افتتاحی تقریب میں اپنے پیر و مرشد مہاجر مکی کی نمائندگی کے لیے مدعو تھے۔ بہار کے مرکزی دینی ادارے: مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے بانی بھی یہی ہیں]

6: مولانا وارث علی

7: قاضی مولانا احمد علی

8: حضرت شاہ محمد علی عرف شاہ دھوپن

9: حضرت شاہ عزیزاللہ

10: حضرت شاہ محمد حسن

11: حضرت شاہ ابوالخیر

12: حضرت شاہ محمد ابوالحسن

13: مخدوم پیر ناصرالدین ناصر زاہدی میرٹھی

14: حضرت شہاب الدین قتال زاہدی

15: سراج الآخرت حضرت مخدوم پیر بدرالدین بدر عالم زاہدی میرٹھی ثم بہاری

[یہ پیر ہیں مخدوم شاہ محمد اشرف سمنانی کچھوچھہ کے، سمنانی میاں کو زاہدی سلسلے میں انہیں کے واسطے سے خلافت حاصل ہے۔ یہ میرٹھ سے پنڈوہ شریف، بنگال چلے گئے، پھر وہاں سے چاٹگام، پھر بہار شریف منتقل ہوگئے۔ بدر عالم زاہدی صاحبؒ کی وفات 844ھ میں ہوئی]

16: حضرت شہاب الدین زاہدیؒ

[یہ حرم شریف کے امام تھے، جزیرۃ العرب سے ہندوستان یہی بزرگ میرٹھ تشریف لائے، اس طرح خانوادۂ ناصری 650 ھ کے آس پاس سے ہندوستانی شہریت رکھتا ہے۔ امامِ حرم کی وفات 658 ھ ہے۔]

17: حضرت شہاب الدین حق گو زاہدیؒ

18: سلطان حضرت سید احمد صوفیؒ

ولادت

مولانا کی تاریخِ پیدائش 13 مئی 1978 ہے۔

وطنی تعلق

مولانا کا آبائی وطن: ناصر گنج، نِستَہ، ضلع دربھنگہ، بہار ہے۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ منور علی دربھنگویؒ نے اپنے پیر و مرشد کے ایما پر مدرسہ امدادیہ دربھنگہ. قائم کیا، جو بعد میں بہار کا دارالعلوم ثابت ہوا، اس ادارے نے بہار کو دینی تعلیم اور احیائے اسلام کا گہوارہ بنا دیا۔ اس ادارے میں مناظرِ اسلام مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری اور حضرت علامہ ابراہیم بلیاویؒ سابق محدث دارالعلوم دیوبند بھی تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ اس مدرسے کے فیض یافتگان میں علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مناظر احسن گیلانی، قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمہم اللہ سمیت لاتعداد اربابِ علم و فن ہیں۔ مولانا دربھنگویؒ مولانا کے والد کے پردادا تھے۔ مولانا دربھنگویؒ دارالعلوم ندوۃ العلما کی تحریکوں میں بھی شامل رہے ہیں۔

والد صاحب شادی کے فوراً بعد ہی اپنی سسرال میں رہ گئے۔ اس لیے اب تازہ وطن بہار ہی کے ضلع مدھوبنی میں واقع بَلہا، کمتول گاؤں ہے۔

تعلیم و تربیت

ابتدائی تعلیم والدِ مرحوم حضرت مولانا جمیل احمد ناصری صاحب سے حاصل کی۔ وہ دارالعلوم مئو اعظم گڑھ کے فاضل تھے۔ 22 برس ملک کے طول و عرض میں دینی خدمات انجام دینے کے بعد اپنے وطن میں ہی جامع مسجد کے امام و خطیب بنے۔ وہ 1933 میں پیدا ہوئے اور 2014 میں وفات پائی۔

ناظرہ خوانی کے بعد تحفیظ القرآن کی شروعات بھی والد صاحب کے پاس کی۔ پھر مدرسہ حسینیہ، پروہی، پتونا و اسراہی، ضلع مدھوبنی میں حفظ کی تکمیل کی۔ اس ادارے میں 4 سال قیام رہا۔ خصوصی استاذ الحاج حافظ مہر حسین پتونویؒ تھے۔ اس کے بعد ایک سال مزید لگایا اور یہ سال مدرسہ دینیہ غازی پور، یوپی میں لگا۔ استاذ، حضرت قاری شبیر احمد صاحب مدظلہ رہے۔ یہ سال حفظ کے دور میں گزرا۔ سن تھا 1990۔

عربی تعلیم

تکمیلِ حفظ کے بعد مدرسہ اسلامیہ، شکرپور، بھروارہ، ضلع دربھنگہ، بہار میں داخل ہوا اور یہاں کے 5 سالہ قیام کے دوران درجۂ فارسی، پھر عربی اول تا چہارم کے درجات پڑھے۔ 1996 کے آغاز میں دارالعلوم دیوبند چلا گیا، وہاں عربی ششم، یعنی جلالین شریف کی جماعت میں داخلہ ہوا۔ یہاں 3 سال گزارے اور 1998 میں دورۂ حدیث پڑھ کر فراغت حاصل کی۔ حضرت مولانا نصیر احمد خان بلندشہریؒ، شیخ عبدالحق اعظمی صاحبؒ اور حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب دام ظلہم وغیرہ دورۂ حدیث کے اساتذہ ہیں۔

تدریس

جولائی 1999 سے تدریس کا آغاز ہوا۔ ممبئی کی معروف اور مرکزی درس گاہ دارالعلوم عزیزیہ، میرا روڈ سے ہوا۔ وہاں 4 برس گزارے۔ اس دوران ابتدا سے عربی ششم، یعنی جماعت جلالین تک متعدد کتب پڑھائیں۔ درمیان کے دو برس ممبئی کے ہی ایک دوسرے مدرسے میں گزرے۔ 2004 میں گجرات کی راجدھانی احمد آباد گئے۔ وہاں کے جامعہ دارالقرآن، سرخیز میں ڈھائی سال، جب کہ جامعہ فیضان القرآن، سرس پور میں ڈیڑھ برس تدریس جاری رہی۔ ان مدارس میں بھی انتہائی جماعت تک کی کتب پڑھائیں۔ 2008 سے جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہاں ابتدا سے ہی دورۂ حدیث شریف کے اسباق احقر سے متعلق ہیں۔ اس وقت ترمذی شریف جلد ثانی زیرِ تدریس ہے۔

نائب ناظمِ تعلیمات

10 جنوری 2018 سے جامعہ میں نائب ناظمِ تعلیمات کے طور پر بھی خدمات جاری ہیں۔

ماہ نامہ: محدثِ عصر، دیوبند

2008 سے ہی جامعہ امام محمد انورشاہ دیوبند کے ترجمان: ماہ نامہ محدثِ عصر کے جامع و مرتب ہے۔ اس وقت اس کے نائب مدیر بھی مولانا فضیل صاحب ہی ہے۔

صحافتی کاوشیں

طالب علمی کے دور میں ہی دیواری پرچوں کا مدیر رہا۔ 1999 سے اخبارات میں بھی کالم لکھے۔ ملک کے تمام بڑے اخبار میں تحریرات شائع ہوئیں۔ اردو ٹائمز، ممبئی میں دو برس مضامین لکھے۔ روزنامہ انقلاب، ممبئی میں بھی کالم چلے۔ ہفت روزہ عالمی سہارا میں بھی برسوں لکھا۔ یہ سارے مضامین زیادہ تر اسلامی اور سیاسی موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔

تصنیفات

درسی کتاب منتخب الحسامی کی اردو شرح تفہیمِ الہامی اور میبذی کی اردو شرح تفہیم المیبذی۔ پچاسی سالہ فنکار: اپنے آئنے میں یہ رسالہ وحیدالدین خان کے افکار و نظریات کے رد پر ہے۔ حدیثِ عنبر ۔ یہ 250 صفحات کی کتاب ہے۔ یہ اولین مجموعۂ کلام ہے۔ اس میں حمدیں، نعتیں، نظمیں، غزلیں اور مرثیے وغیرہ ہیں۔ نایاب ہیں ہم، اس میں دیدہ اور عظیم شخصیات پر مضامین ہیں۔ یہ کتاب ابھی زیرِ طبع ہے۔ 400 صفحات میں آئے گی۔

شاعری

خاکسار کی باقاعدہ شاعری 1996 سے چل رہی ہے۔ اس فن میں باقاعدہ کوئی استاذ نہیں۔ ایک نظم ہو گیا اسلام ہندستان میں زنار پوش کے عنوان سے لکھی تھی، جس کی اصلاح مشہور عالمی شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز مرحوم نے کی تھی۔ حدیثِ عنبر کے بعد نیا مجموعۂ کلام آؤ کہ لہو رو لیں قریب بہ اشاعت ہے۔ یہ مجموعہ بھی 250 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں 17 مارچ 2017 سے لکھی گئی نظمیں ہیں، جو امتِ مسلمہ کی زبوں حالیوں پر روشنی ڈالتی ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s